احمد فراز

تو بہتر ہے یہی

یہ تری آنکھوں کی بے زاری یہ لہجے کی تھکن

کتنے اندیشوں کی حامل ہیں یہ دل کی دھڑکنیں

پیشتر اس کے کہ ہم پھر سے مخالف سمت کو

بے خدا حافظ کہے چل دیں جھکا کر گردنیں

آؤ اس دکھ کو پکاریں جس کی شدت نے ہمیں

اس قدر اک دوسرے کے غم سے وابستہ کیا

وہ جو تنہائی کا دکھ تھا تلخ محرومی کا دکھ

جس نے ہم کو درد کے رشتے میں پیوستہ کیا

وہ جو اس غم سے زیادہ جاں گسل قاتل رہا

وہ جو اک سیل بلا انگیز تھا اپنے لیے

جس کے پل پل میں تھے صدیوں کے سمندر موجزن

چیختی یادیں لیے اجڑے ہوئے سپنے لیے

میں بھی ناکام وفا تھا تو بھی محروم مراد

ہم یہ سمجھے تھے کہ درد مشترک راس آ گیا

تیری کھوئی مسکراہٹ قہقہوں میں ڈھل گئی

میرا گم گشتہ سکوں پھر سے مرے پاس آ گیا

تپتی دوپہروں میں آسودہ ہوئے بازو مرے

تیری زلفیں اس طرح بکھریں گھٹائیں ہو گئیں

تیرا برفیلا بدن بے ساختہ لو دے اٹھا

میری سانسیں شام کی بھیگی ہوائیں ہو گئیں

زندگی کی ساعتیں روشن تھیں شمعوں کی طرح

جس طرح سے شام گزرے جگنوؤں کے شہر میں

جس طرح مہتاب کی وادی میں دو سائے رواں

جس طرح گھنگھرو چھنک اٹھیں نشے کی لہر میں

آؤ یہ سوچیں بھی قاتل ہیں تو بہتر ہے یہی

پھر سے ہم اپنے پرانے زہر کو امرت کہیں

تو اگر چاہے تو ہم اک دوسرے کو چھوڑ کر

اپنے اپنے بے وفاؤں کے لیے روتے رہیں

احمد فراز

About the author

admin

Leave a Comment